پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما و سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ’’مائنس ون نہیں تو پی ٹی آئی پوری مائنس‘‘، اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور سخت ایکشن لیا جائے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت ختم ہوچکی ہے اور یہ صرف اقتدار اور پیسے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کے باہمی جھگڑوں نے حالات کو اس موڑ پر پہنچا دیا ہے کہ اب ’’ایک انچ بھی برداشت‘‘ نہیں کیا جائے گا اور ’’رگڑ دیں گے‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد بہت سے لوگ سرنڈر کرچکے ہیں، جبکہ پیر سے ’’ترقی کا نیا سلسلہ‘‘ شروع ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے رویے نے ان کی سیاسی کمزوری سب کے سامنے لا دی ہے، اگر کوئی بانی سے نہ ملے تو وہ فرسٹریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، لہٰذا ’’مائنس ون‘‘ قبول کریں اور گھر جائیں۔
دوسری جانب، پروگرام میں موجود سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ قومی مکالمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہر راستہ ڈائیلاگ سے نکلتا ہے، اس لیے تمام جماعتوں کو بیٹھ کر معاملات حل کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے جتنی سختی برداشت کرنی تھی وہ کرچکی، اب مزید کیا کیا جائے؟ اگر تمام سیاستدان بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا سلسلہ بحال کریں تو ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی میں کسی کو مائنس کرنا عوام کا حق ہوتا ہے، زبردستی کسی کو سیاست سے باہر کرنے کی کوشش عوامی ہمدردی اس کے ساتھ لے آتی ہے، جیسے نوازشریف کے ساتھ ہوا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ریاست پاکستان سے بڑھ کر کچھ نہیں اور ایک شخص کی خواہشات ریاست کے مقابل نہیں آسکتیں۔
اس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کو جیل ملاقاتوں اور عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما اپنے لیڈر کے غیر مناسب بیانات پر معذرت کریں تو بات چیت پر غور کیا جاسکتا ہے۔

