پاک فوج کی خیبر پختونخوا میں دو بڑی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 9 دہشتگرد ہلاک

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے اضلاع ٹانک اور لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کی دو کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے اور دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔

پہلا آپریشن ٹانک میں 5 دسمبر کو کیا گیا، جہاں فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 7 خوارج ہلاک ہوئے۔ ترجمان نے بتایا کہ ہلاک دہشتگرد متعدد حملوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

اسی روز دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن لکی مروت میں کیا گیا، جس میں مزید 2 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دونوں مقامات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی مواد برآمد کیا گیا، جو بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد نیٹ ورک کے فعال ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز بدستور جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے تک یہ کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

دوسری جانب، صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے دونوں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر زرداری نے فورسز کی بروقت کارروائی، پیشہ وارانہ مہارت اور دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کی صلاحیت کو سراہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اپنی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فورسز کی جرات، بہادری اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے فورسز پرعزم ہیں۔

حکومتی و عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشنز پاکستان کی قومی سلامتی، امن و استحکام، اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔