معرکہ حق اور عالمی سفارت کاری: فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی کامیابیوں اور تاریخی کردار پر ایک نظر

اسلام آباد: پاکستان کے فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس حافظ سید عاصم منیر کا شمار اُن اہم ترین عسکری رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف سیکیورٹی اداروں میں تاریخی اصلاحات کیں بلکہ میدانِ جنگ، خفیہ اداروں کی قیادت اور بین الاقوامی محاذوں پر بھی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے حافظ سید عاصم منیر 1968 میں پیدا ہوئے، انہوں نے کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کیا اور اپنی بنیادی تعلیم راولپنڈی ہی سے حاصل کی۔

1986 میں آفیسرز ٹریننگ اسکول منگلا سے کمیشن حاصل کرنے والے حافظ سید عاصم منیر نے دوران تربیت اعزازی تلوار حاصل کی، جو ان کی علمی و عسکری مہارت کا ابتدائی اعتراف تھا۔ انہوں نے جاپان کی Fuji School، ملائشیا کے Armed Forces College اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پاکستان سے اعلیٰ تعلیم و تربیت بھی حاصل کی۔

اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے فورس کمانڈر نادرن ایریاز، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل سمیت اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ واحد فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے بیک وقت پاکستان کے دونوں بڑے خفیہ اداروں، ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کی سربراہی کی۔

29 نومبر 2022 کو انہیں پاکستان آرمی کا 17واں آرمی چیف مقرر کیا گیا، جب کہ مئی 2025 میں ملک کی عسکری تاریخ کے اہم فیصلوں اور شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کے اعزازی عہدے سے نوازا گیا۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ’’معرکہ حق‘‘ کےنام سے ایک فیصلہ کن آپریشن میں 9 اور 10 مئی کی رات بھارت کو بھرپور شکست دی اور ہر محاذ پر برتری حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت پر جنگ بندی عمل میں آئی، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے فیلڈ مارشل کو اعلیٰ ترین عسکری اعزاز سے سرفراز کیا۔

ان کی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان کی شمالی و جنوبی سرحدوں پر سیکیورٹی مضبوط ہوئی، دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مضبوط ہوا۔ عالمی سطح پر بھی فیلڈ مارشل نے پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ امریکی صدر سے تاریخی ملاقات میں دفاعی تعاون، خطے کے استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی حکمتِ عملی پر اہم پیش رفت ہوئی۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے ایران-امریکہ تنازعے میں بھی بھرپور سفارتی کردار ادا کیا، جب کہ چین، خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے پاکستان کی علاقائی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔

ان کی سربراہی میں پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل ڈیفنس سسٹمز، جدید فضائی صلاحیتوں اور ہائی ٹیک وارفیئر کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی۔ بارڈر مینجمنٹ، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید دفاعی انفراسٹرکچر کو بھی نئی سطح پر لے جایا گیا۔

معرکہ حق اور دیگر کامیاب اقدامات نے پاکستان کو نہ صرف ایک مضبوط اور محفوظ ملک کے طور پر پیش کیا بلکہ جدید دفاعی طاقت کے طور پر عالمی سطح پر اس کا تشخص مزید مستحکم کیا۔