امریکا کی سفری پابندیوں میں توسیع، فہرست 30 سے زائد ممالک تک پہنچنے کو تیار

واشنگٹن: امریکا نے سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ممالک کی تعداد 19 سے بڑھا کر 30 سے زائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کسی ملک کا نام لیے بغیر تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید ممالک کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں فہرست میں توسیع کا امکان ہے۔

کرسٹی نوم کے مطابق، ایسے ممالک جن کی حکومتیں مستحکم نہیں، جو اپنے شہریوں کا درست بیک گراؤنڈ ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا امریکی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں تعاون نہیں کرتے، ان پر نئی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خدشات کے تحت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں روک دی تھیں، جن میں گرین کارڈ اور امریکی شہریت کے کیسز بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان ممالک کے شہریوں پر نافذ کی گئی تھی جن پر جون میں پہلے ہی جزوی پابندیوں کا اطلاق تھا۔

رائٹرز کے مطابق، مکمل سفری پابندی کے شکار ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، استوائی گنی، اریتريا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں، جن پر جون میں سب سے سخت سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان پابندیوں میں چند استثناؤں کے ساتھ امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی بھی شامل تھی۔

جزوی پابندی والے ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینیزویلا شامل ہیں، جن کے شہریوں کو امیگریشن، ویزا اور سیکیورٹی کلیئرنس کے مراحل میں سختی کا سامنا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اس فہرست کو 36 مزید ممالک تک بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر ہونے والے حملے کا تعلق ایک افغان شہری سے جوڑا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔