جو امریکا کیلئے مفید نہیں، انہیں ملک چھوڑنا ہوگا، نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد ٹرمپ کا سخت ردعمل، امیگریشن مکمل معطل
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ ممالک سے امریکا کی جانب ہجرت کو مستقل طور پر روکنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی امیگریشن نظام کو ’’مکمل طور پر بحال‘‘ کرنا ہے۔
یہ اعلان واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکار پر حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں 20 سالہ رکن سارہ بیکسٹروم ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہوا۔ حملے کا الزام 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال پر عائد کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں امیگریشن قوانین اور سیکیورٹی اقدامات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر دعویٰ کیا کہ امریکا میں غیر ملکی آبادی 5 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو ان کے مطابق ریاستی وسائل، فلاحی بجٹ، روزگار اور شہری ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’عام مہاجر جس کی آمدنی 30 ہزار ڈالر ہو، اسے سالانہ تقریباً 50 ہزار ڈالر کے فوائد دیے جاتے ہیں۔‘‘
امریکی صدر نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بائیڈن دور میں بغیر مکمل جانچ پڑتال کے لاکھوں افراد امریکا داخل ہوئے، جن میں سے کئی ’’سیکیورٹی رسک‘‘ بنے۔
انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام ’’تھرڈ ورلڈ‘‘ ممالک سے امیگریشن مستقل طور پر روک دی جائے گی، 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کا سخت سیکیورٹی آڈٹ کیا جائے گا، ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کی جائے گی جو ’’امریکا کیلئے مفید نہیں‘‘، وفاقی فوائد صرف امریکی شہریوں تک محدود ہوں گے اور بائیڈن دور میں داخل ہونے والے ’’تمام‘‘ غیر قانونی مہاجرین ملک بدر کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے مینیسوٹا میں صومالی مہاجرین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’ریاست کا نقشہ بدل دیا‘‘ اور کانگریس رکن الہان عمر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق، 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کے آڈٹ میں افغانستان، ایران، یمن، صومالیہ، لیبیا، سوڈان، وینزویلا، برما اور کئی افریقی و ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اعلان امریکی امیگریشن تاریخ کی سخت ترین پالیسیوں میں سے ایک ہے، جس کے سیاسی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات متوقع ہیں۔

