یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس سے جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین اس فریم ورک کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ اپنے بیان میں زیلنسکی نے واضح کیا کہ منصوبے میں موجود چند اختلافی نکات پر امریکا اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ جامع مشاورت کی جائے گی تاکہ معاہدہ قابلِ قبول، قابلِ عمل اور دیرپا ثابت ہو سکے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق، زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں ’’ری ایشورنس فورس‘‘ تعینات کرنے کے لیے ایک واضح فریم ورک تیار کریں، جس کا مقصد روسی دباؤ کے مقابلے میں Kyiv کو اس وقت تک مضبوط رکھنا ہے جب تک ماسکو امن کے لیے حقیقی ارادہ ظاہر نہیں کرتا۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے متعلق فیصلوں میں یوکرین کی شمولیت ضروری ہے، جبکہ یورپ کے سیکیورٹی فیصلوں میں یورپی ممالک کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پسِ پردہ کیے گئے فیصلے کبھی دیرپا نہیں ہوتے۔
امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان جنیوا میں 28 نکاتی امن تجاویز پر جامع مذاکرات ہو چکے ہیں جن میں تنازع کے بڑے حصے پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امن منصوبے کے متعدد نکات پر اتفاق ہوچکا ہے جبکہ چند حساس امور پر مزید بات چیت کی ضرورت باقی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ خود اس عمل میں براہِ راست ملوث ہیں اور انہوں نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو بھیجنے کی ہدایت کی ہے تاکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ حتمی معاملات طے کیے جا سکیں۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس کو جنگ میں واضح برتری حاصل ہے اور یوکرین کو اپنے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے معاہدے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق منصوبے میں صرف چند اختلافی نکات باقی ہیں اور 27 نومبر کی دی گئی ڈیڈ لائن حتمی نہیں بلکہ اصل مقصد معاہدے کی تکمیل ہے۔
ادھر روس نے بھی ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا ہے، تاہم ماسکو کا کہنا ہے کہ معاہدے کے متن میں کوئی بھی ترمیم اس ’’روح‘‘ کے مطابق ہونی چاہیے جو پیوٹن اور ٹرمپ کی الاسکا ملاقات میں طے پائی تھی، ورنہ روس اسے نئے زاویے سے دیکھے گا۔ پیوٹن پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر یوکرین نے معاہدے کو مسترد کیا تو روس مزید علاقوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔
اس دوران کیف روسی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے جن میں سات افراد ہلاک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ یوکرین کے سیکیورٹی چیف کے مطابق زیلنسکی ممکنہ طور پر آئندہ چند دنوں میں امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے، تاہم واشنگٹن نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

