دبئی ایئر شو میں بھارتی جنگی طیارے تیجس ایم کے۔1 اے کے ہلاکت خیز حادثے کے بعد آرمینیا نے بھارت کے ساتھ 1.2 ارب ڈالر مالیت کے مجوزہ معاہدے پر مذاکرات فوری طور پر معطل کر دیے ہیں۔
آرمینیا بھارتی ساختہ ہلکے لڑاکا طیاروں کی خریداری کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا تھا، اور دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 12 سے 20 طیاروں پر مشتمل ڈیل پر بات چیت جاری تھی۔ تاہم حادثے کے بعد آرمینیا نے تیجس کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور طویل المدتی آپریشنل سیکیورٹی پر سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ بھارتی تیجس پروگرام کی پہلی بڑی برآمدی کامیابی ہوتی، جو بھارت کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل تصور ہوتی۔ لیکن حادثے کے بعد نہ صرف آرمینیا نے مذاکرات روک دیے بلکہ اس فیصلے سے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو بھی مالی نقصانات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ تیجس میں شامل اہم ریڈار اور جدید آلات اسرائیل میں تیار کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ 21 نومبر کو دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کے وِنگ کمانڈر نمانش سیال طیارے کی پرواز کے دوران منفی جی کی ایک خطرناک مشق کے دوران کنٹرول برقرار نہ رکھ سکے، جس کے نتیجے میں طیارہ گر کر تباہ ہوگیا اور پائلٹ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اس المناک حادثے نے تیجس پروگرام کے فلائی بائی وائر سسٹم، thrust-to-weight ریشو، وزن کی تقسیم اور پہلے سے موجود پیداواری تاخیر پر بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت بھارت کی دفاعی برآمدات کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوگی، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی مارکیٹ میں جنوبی کوریا کے FA-50، فرانس کے رافیل اور پاک-چین کے JF-17 جیسے حریف پہلے ہی مضبوط مقابلہ فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، آرمینیا اب متبادل آپشنز پر غور کر رہا ہے جن میں ڈاؤن گریڈڈ رافیل ورژن اور جنوبی کوریا کا FA-50 سرفہرست ہیں۔
بھارت نے حادثے کی عدالتی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ وزارتِ دفاع عالمی سطح پر تیجس کی ساکھ پر پڑنے والے منفی اثرات کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر رہی ہے۔

