طالبان کا پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام، اسلام آباد کی دوٹوک تردید

افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک بار پھر پاکستان پر سرحد پار فضائی حملوں کا الزام عائد کیا ہے، تاہم یہ دعویٰ کسی ثبوت کے بغیر سامنے آیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ صوبہ خوست میں ایک گھر پر حملے میں 9 بچے اور ایک خاتون ہلاک ہوئی، جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے مبینہ حملوں میں بھی 4 افراد مارے گئے۔

افغان ترجمان نے ان کارروائیوں کو ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کے خلاف قدم قرار دیا، تاہم اپنے الزامات کے ساتھ کوئی شواہد پیش نہ کیے۔

دوسری جانب، یہ الزام ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پشاور میں وفاقی کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر حالیہ خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید اور 12 زخمی ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری جماعت التحریر نے قبول کی، جو دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا ذیلی گروپ بتائی جاتی ہے۔

تفتیش کے مطابق، حملہ آور افغان شہری تھے جو سرحد پار واپس کمین گاہوں میں پناہ لیتے رہے۔

رواں ماہ اسلام آباد میں ایک اور حملے میں 12 افراد کی شہادت کے بعد بھی شواہد ٹی ٹی پی کی طرف اشارہ کرتے تھے۔

اس تمام پس منظر میں پاک-افغان مذاکراتی عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا تھا جسے ترکی اور قطر کی ثالثی کے باعث عارضی طور پر جاری رکھا گیا، مگر 7 نومبر کو تیسرے دور کے بعد وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ بات چیت غیر معینہ مدت کیلئے ختم ہو گئی ہے کیونکہ بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔

اس کے بعد کابل حکومت نے پاکستان سے تجارت معطل کر دی جبکہ پاکستان پہلے ہی سرحد بند کر چکا تھا۔ ترکیہ کے اعلیٰ سطح وفد کا اسلام آباد کا دورہ متوقع تھا مگر اس میں تاخیر نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ افغانستان سے تجارت کی بحالی کا انحصار کابل کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے پر ہے اور علاقائی توانائی منصوبوں کا مستقبل بھی اسی شرط سے منسلک ہے۔

ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج پریس کانفرنس میں افغان سرزمین پر حملوں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جب کارروائی کرتا ہے تو کھلے عام اس کا اعلان کرتا ہے، جیسا کہ اکتوبر میں کارروائی کے وقت بتایا گیا تھا۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان کبھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتا اور بطور ریاست ذمہ داری کے ساتھ ردعمل دیتا ہے۔

ترجمان کے مطابق “خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ ممکن نہیں کہ ہم پر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی جاری رکھیں۔ ہمارا اختلاف افغان عوام سے نہیں بلکہ دہشت گردی سے ہے۔”