دبئی میں جاری انٹرنیشنل ایئر شو کے دوران بھارت کا جنگی طیارہ تیجس گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں پائلٹ ہلاک ہوگیا اور حادثے نے بھارتی فضائیہ کو عالمی سطح پر ایک بار پھر رسوائی کا سامنا کروایا۔
واضح رہے کہ ایئر شو میں مختلف ممالک کے طیارے اور دیگر آلات پیش کیے جا رہے تھے اور حادثہ ایئر شو کے آخری روز پیش آیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بج کر 10 منٹ پر ہوا اور بھارتی فضائیہ نے تصدیق کر دی کہ پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ حادثے سے ایک دن قبل تیجس طیارے کا آئل لیک ہونے کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ دبئی ایئر شو 2025 میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اور 1500 کمپنیوں نے حصہ لیا۔
غیر ملکی ماہرین کے مطابق، اس حادثے سے بھارت کی دفاعی خود انحصاری اور جیٹ برآمدات کی عالمی کوششوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے، اگرچہ فائٹر طیاروں کی فروخت بڑے آرڈرز سیاسی حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ایک وقتی حادثہ انہیں مکمل طور پر متاثر نہیں کرے گا۔
تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع ہوا تاکہ پرانے سوویت MiG-21 طیاروں کی جگہ جدید طیارے متعارف کرائے جائیں۔ MiG-21 کا آخری طیارہ ستمبر میں ریٹائر ہوا جبکہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (HAL) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست رہی ہے۔
ریاستی ملکیت والی کمپنی نے Mk-1A طیاروں کے لیے 180 جدید یونٹس کے آرڈرز دیے ہیں، تاہم GE ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ترسیل شروع نہیں ہوسکی۔
سابق HAL ایگزیکٹو کے مطابق، دبئی حادثہ نے فوری برآمدات کے امکانات ختم کر دیے ہیں، اور بھارت کی ہدف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ شامل تھے، جبکہ 2023 میں HAL نے ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز ہوگی۔

