واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں ایلون مسک اور کرسٹیانو رونالڈو سمیت عالمی شخصیات نے شرکت کی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، غزہ کی موجودہ صورتحال پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے اور ’’غزہ بورڈ آف پیس‘‘ میں کئی عالمی رہنما شامل ہوں گے۔
اس موقع پر سعودی ولی عہد نے بہترین مہمان نوازی پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی مضبوط اور مسلسل ترقی پر ہیں۔ ولی عہد نے امریکا میں کمپیوٹنگ، چِپس، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا۔
مشترکہ پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو ’’مستقبل کا بادشاہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق سمیت متعدد شعبوں میں مثبت اقدامات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکا سعودی عرب کو جدید F-35 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا، جبکہ سعودی درخواست پر امریکا شام پر عائد پابندیاں بھی نرم کرنے کا عمل شروع کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے اپنی مدت میں آٹھ جنگیں روکوائیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسری متربہ ممکنہ جنگ کو روکنا بھی شامل ہے۔
محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب ابراہم معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے، مگر اس کے لیے فلسطین کے دو ریاستی حل کی ضمانت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے امریکا–سعودی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اُدھر صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’سعودی ولی عہد اس واقعے سے لاعلم تھے‘‘۔ انہوں نے خاشقجی قتل کیس کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے محمد بن سلمان کی انسانی حقوق کے شعبے میں اقدامات کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ جمال خاشقجی 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کیے گئے تھے۔ سعودی حکام نے ابتدا میں انکار کیا، تاہم بعد میں اسے لڑائی کے دوران ہونے والی ہلاکت قرار دیا۔ قتل میں ملوث ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں، جس کے بعد مقتول کے لواحقین نے معافی دے دی تھی اور سزاؤں میں نرمی کر دی گئی تھی۔

