پاکستان کے لیے بڑی معاشی کامیابی: سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرز اسٹیٹ بینک کو موصول، ملکی ذخائر میں بڑا اضافہ

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے؛ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے وعدہ کیے گئے فنڈز میں سے 2 ارب ڈالرز مرکزی بینک کو موصول ہو گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ رقم 15 اپریل 2026 کو موصول ہوئی، جس کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ذرائع وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مجموعی طور پر 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کی پہلی قسط موصول ہونے سے بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس اہم پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی حکومت کی جانب سے بقیہ فنڈز بھی جلد موصول ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ سعودی عرب نے پہلے سے موجود 5 ارب ڈالرز کے ڈپازٹس کی مدت میں بھی غیر معمولی توسیع کر دی ہے۔

اب یہ ڈپازٹس سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہونے کے بجائے ایک ہی بار 3 سال کے لیے توسیع پا چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کی میچورٹی اب 2028 تک جائے گی۔ اس اقدام سے پاکستان کے بیرونی کھاتے (External Account) کو طویل مدتی استحکام ملے گا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ معاونت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات (UAE) کو 3.5 ارب ڈالرز کی اہم ادائیگی کرنی ہے۔ سعودی عرب سے موصول ہونے والے ان ڈالرز نے مرکزی بینک کے ذخائر پر پڑنے والے اس بڑے بوجھ کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاک سعودی اقتصادی تعلقات ایک نئے اور مضبوط دور میں داخل ہو چکے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت کو پہنچ رہا ہے۔