فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور محسن نقوی تہران پہنچ گئے: امریکہ ایران مذاکرات میں اہم پیش رفت متوقع

اسلام آباد: خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔

تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پاکستانی وفد کا پُرتپاک استقبال کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایران امریکہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل کاوشوں کا حصہ ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران آج ان مذاکرات کے تسلسل میں پاکستانی وفد کی میزبانی کر رہا ہے۔

ایرانی میڈیا اور قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کرے گا، جو آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات دونوں مسلم ممالک کے درمیان گہرے اور مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف بھی اہم مشاورت کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

پاکستان اس وقت عالمی سطح پر ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنا رہا ہے بلکہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے ٹھوس تجاویز بھی پیش کر رہا ہے۔

تہران میں ہونے والی ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا مقصد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے ایجنڈے کو حتمی شکل دینا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑے بحران سے نکالا جا سکے۔

عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اسلام آباد میں ہونے والے اگلے دورِ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جسے امن کے قیام کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔