معاہدے کی خلاف ورزی پر پی سی بی کا بڑا ایکشن: زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل کے لیے 2 سال کی پابندی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زمبابوے کے فاسٹ باؤلر بلیسنگ مزارابانی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ان پر پاکستان سپر لیگ میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

پی سی بی کے اعلامیے کے مطابق، 29 سالہ باؤلر مزارابانی نے پی ایس ایل کے رواں سیزن میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے کے لیے تمام شرائط اور معاوضے کے ڈھانچے پر تحریری طور پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔

پی سی بی نے اس طرزِ عمل کو پیشہ ورانہ اصولوں اور نیک نیتی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزارابانی کو پی ایس ایل کے اگلے دو ایڈیشنز کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

بورڈ کا موقف ہے کہ پیشہ ورانہ کرکٹ کا تمام تر دارومدار باہمی اعتماد اور معاہدوں کی پاسداری پر قائم ہے۔ پی سی بی کے مطابق، جب کسی کھلاڑی اور ایجنٹ کے ساتھ تحریری خط و کتابت کے ذریعے شرائط طے پا جاتی ہیں تو ان کی پابندی کرنا ایک اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

بغیر کسی ٹھوس وجہ کے طے شدہ وعدوں سے انحراف کرنا ٹورنامنٹ کے وقار اور پیشہ ورانہ ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ یہ دو سالہ پابندی خلاف ورزی کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا مقصد لیگ کے پیشہ ورانہ ڈھانچے اور ساکھ کا تحفظ یقینی بنانا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِ باب کیا جا سکے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پی سی بی نے کسی غیر ملکی کھلاڑی کے خلاف ایسا سخت قدم اٹھایا ہو؛ گزشتہ سال بھی جنوبی افریقہ کے کرکٹر کوربن بوش کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی گئی تھی۔

پی سی بی کے ترجمان نے زور دیا کہ فرنچائز لیگز میں شفافیت اور تسلسل کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں، اور پی ایس ایل کے وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزارابانی پر اس پابندی کے بعد اب وہ پی ایس ایل 12 اور 13 میں بھی شرکت نہیں کر سکیں گے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے اس فیصلے سے بین الاقوامی کھلاڑیوں کو یہ واضح پیغام گیا ہے کہ پی ایس ایل کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو معمولی نہ لیا جائے۔