فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں، امریکہ ایران مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا اور انتہائی اہم دور آئندہ دو روز کے اندر دوبارہ پاکستان میں شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔
امریکی میڈیا اور ‘نیو یارک پوسٹ’ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار اور بالخصوص چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک "لاجواب انسان” ہیں اور وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہے۔
انہوں نے رپورٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ وہیں (پاکستان میں) رہیں کیونکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں کچھ بھی بڑا ہو سکتا ہے”۔
صدر ٹرمپ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال پیدا ہوئی تھی، تب سے ان کا رابطہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قائم ہوا تھا اور وہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بہت سی باتوں پر سمجھوتہ ہو چکا ہے، تاہم یورینیم اور کچھ دیگر تکنیکی امور پر اختلاف برقرار ہے جنہیں مذاکرات کے اگلے دور میں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان اس پورے عمل میں ایک مرکزی اور اہم ترین کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکی وفد کے دورہ پاکستان کی تردید کے بعد ٹرمپ نے خود دوبارہ فون کر کے پاکستان میں مذاکرات کے قوی امکان کی تصدیق کی، جو اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی حکام اور پاکستان میں موجود ایرانی سفارت خانے کے اہلکاروں نے بھی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود رواں ہفتے یا اگلے ہفتے کے آغاز میں دوبارہ اسلام آباد میں میز پر بیٹھ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور میں فریقین نے دوبدو بات چیت کے بعد تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا تھا، جس نے پائیدار امن کی بنیاد رکھ دی ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف اور پاکستان پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز بن چکا ہے اور یہاں ہونے والی پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

