بلوچستان میں بدامنی اور انتشار کی ایک اور خطرناک لہر دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور اس کی قیادت، خاص طور پر مھرنگ بلوچ، نہ صرف دہشت گردوں کی حمایت میں سرگرم ہے بلکہ ریاستی اداروں کے خلاف کھلی بغاوت پر بھی اتر آئی ہے۔ 11 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے درجنوں بے گناہ شہریوں کو یرغمال بنایا اور 26 افراد کو شہید کر دیا۔ جب سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 33 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، تو دشمنوں کی یہ سازش ناکام ہو گئی۔ لیکن حیران کن طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی اور مھرنگ بلوچ نے نہ تو اس سفاکانہ حملے کی مذمت کی، نہ ہی دہشت گردوں کو مجرم ٹھہرایا، بلکہ ان ہی کی لاشوں کو استعمال کر کے ریاست کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا۔
سول اسپتال کوئٹہ میں جب دہشت گردوں کی لاشیں منتقل کی گئیں تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں نے وہاں ہنگامہ آرائی کی، کچھ لاشیں زبردستی چھین لیں اور جعلی پروپیگنڈہ شروع کر دیا
سول اسپتال کوئٹہ میں جب دہشت گردوں کی لاشیں منتقل کی گئیں تو BYC کے کارکنوں نے وہاں ہنگامہ آرائی کی، کچھ لاشیں زبردستی چھین لیں اور جعلی پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ "لاپتہ افراد” کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے ریاست کے خلاف ایک منفی مہم چھیڑ دی گئی۔ اس دوران، 21 مارچ کو کوئٹہ میں ایک اور پرتشدد احتجاج کیا گیا، جس میں مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں BYC کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور مسلح حملہ کیا۔ نتیجتاً تین افراد، جن میں ایک افغان شہری بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے۔
لاشوں کو احتجاج کو طول دینے کے لیے استعمال کیا گیا اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی
سول انتظامیہ اور پولیس نے ان ہلاکتوں کی میڈیکل جانچ کی پیشکش کی تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ان افراد کو پولیس نے نہیں بلکہ BYC کے اپنے مسلح افراد نے قتل کیا، لیکن مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اس کے بجائے، ان لاشوں کو احتجاج کو طول دینے کے لیے استعمال کیا گیا اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی گئی۔ تاہم، 22 مارچ کو پولیس نے ان ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کی درخواست پر لاشیں برآمد کر کے انہیں ان کے ورثا کے حوالے کر دیا۔
بلوچستان کے اصل مسائل کے حل کے بجائے، مھرنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا مقصد صرف انتشار پھیلانا اور ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا رہا ہے
مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں، سول اسپتال پر حملے، پولیس پر حملہ کرنے، اور پرتشدد احتجاج بھڑکانے کے الزامات میں قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب مھرنگ بلوچ اور BYC نے دہشت گردوں کی سہولت کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں حصہ لیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ دہشت گردوں کے لیے عالمی سطح پر ہمدردی بٹورنے کی کوشش کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان کے اصل مسائل کے حل کے بجائے، ان کا مقصد صرف انتشار پھیلانا اور ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا رہا ہے۔
بلوچ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی نہ تو بلوچستان کے عوام کے خیر خواہ ہیں، نہ ہی ان کا مقصد امن و استحکام ہے
ریاست پاکستان اپنی خودمختاری اور امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بلوچ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مھرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی نہ تو بلوچستان کے عوام کے خیر خواہ ہیں، نہ ہی ان کا مقصد امن و استحکام ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حقیقت کو پہچانا جائے اور ان عناصر کو مسترد کیا جائے جو بلوچستان کے امن کو تہس نہس کرنے کے درپے ہیں۔

