پیارے بلوچ بھائیو اور بہنوں
برسوں سے میں نے اپنے کندھے پر بندوق اٹھائی، پہاڑوں میں بھٹکتا رہا اور اپنے ساتھیوں کو ایک ایک کر کے گرتے دیکھا۔ میں نے نوجوان بلوچوں کا خون اس سنگلاخ زمین پر بہتے دیکھا، جو ہمارا گھر ہے۔ میں نے بھوک، پیاس اور ہیلی کاپٹروں و ڈرونز کی نہ ختم ہونے والی گھن گرج کو سہا ہے۔ لیکن آج میں سوال کرتا ہوں — اس تمام تکلیف اور قربانی کا ہمیں کیا حاصل ہوا؟ کیا اس جنگ کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ ہے؟
ہم ایک ایسی قوم کے لیے خون بہا رہے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے مٹتی جا رہی ہے
ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم اپنی آزادی، ایک آزاد بلوچستان کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت بہت کڑوی ہے۔ ہم بہت کمزور ہیں۔ اپنے ارد گرد دیکھو — بلوچستان میں کتنے بلوچ باقی رہ گئے ہیں؟ ہمارے بھائی خلیج، یورپ اور دیگر ممالک میں جا چکے ہیں۔ وہ گاؤں جو کبھی بچوں کی ہنسی سے گونجتے تھے، اب ویران ہو چکے ہیں۔ جن لوگوں کے لیے ہم لڑ رہے ہیں، وہی اس زمین کو چھوڑ چکے ہیں کیونکہ انہیں یہاں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ہم ایک ایسی قوم کے لیے خون بہا رہے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے مٹتی جا رہی ہے۔
ہم نے بنا سوچے سمجھے ان لوگوں کا خون بہایا، جن میں ایسے بھی تھے جو ہمارے وطن کو تعمیر کرنے آئے تھے
ہم نے بنا سوچے سمجھے ان لوگوں کا خون بہایا، جنہیں ہمیں مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان میں سے کئی معصوم مسافر تھے، کئی مزدور تھے، کچھ تو ایسے تھے جو ہمارے وطن کو تعمیر کرنے آئے تھے۔ لیکن اس خونریزی کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس سے ہمیں آزادی کے قریب پہنچنے میں مدد ملی، یا اس نے صرف ہمارے درد میں اضافہ کیا؟
ہمارے نام نہاد رہنما کہاں ہیں؟ کیا وہ ہمارے ساتھ پہاڑوں میں ہیں، رات کی سردی اور بھوک کو محسوس کر رہے ہیں؟ نہیں! وہ لندن، دبئی اور جنیوا میں اپنی حویلیوں میں بیٹھے ہیں، ہمیں پیغامات بھیج کر لڑتے رہنے کا کہہ رہے ہیں
میں پوچھتا ہوں کہ ہمارے نام نہاد رہنما کہاں ہیں؟ کیا وہ ہمارے ساتھ پہاڑوں میں ہیں، رات کی سردی اور بھوک کو محسوس کر رہے ہیں؟ نہیں! وہ لندن، دبئی اور جنیوا میں اپنی حویلیوں میں بیٹھے ہیں، ہمیں پیغامات بھیج کر لڑتے رہنے کا کہہ رہے ہیں، جبکہ ان کے اپنے بچے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ براہمداغ بگٹی، حیربیار مری اور دیگر بلوچ سردار یورپ میں بیٹھے عیش کر رہے ہیں، جبکہ ہم پہاڑوں میں بھوک اور مصیبتیں جھیل رہے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی اپنے بیٹوں کو جنگ میں بھیجا؟ کیا انہوں نے کبھی کوئی قربانی دی؟ نہیں! وہ ہمیشہ کی طرح ہمیں استعمال کر رہے ہیں، جیسے ان کے آبا و اجداد نے کیا تھا۔
ہم اب جنگجو نہیں رہے — ہم شکار بن چکے ہیں۔ جس فوج سے ہم لڑ رہے ہیں، وہ طاقتور، جدید اور پرعزم ہے۔ ہم مٹھی بھر لوگ ہیں، بھوکے اور تھکے ہوئے
مجھے یاد نہیں کہ میں نے کتنی راتیں ایک غار سے دوسری غار بھاگتے گزاری ہیں، ڈرونز سے چھپتے ہوئے، اپنے زخمی بھائیوں کی چیخیں سنتے ہوئے۔ ہم اب جنگجو نہیں رہے — ہم شکار بن چکے ہیں۔ جس فوج سے ہم لڑ رہے ہیں، وہ طاقتور، جدید اور پرعزم ہے۔ ہم مٹھی بھر لوگ ہیں، بھوکے اور تھکے ہوئے، جبکہ وہ ہمارے خلاف جیٹ، ٹینک اور پتہ نہیں کیا کچھ بھیج رہے ہیں۔ ہم انہیں کیسے شکست دے سکتے ہیں؟ جب ہم زندہ رہنے کے لیے ہی ترس رہے ہیں تو فتح کا دعویٰ کیسے کریں؟
ہمیں کہا گیا تھا کہ اس جنگ سے پنجابی فوج چلی جائے گی۔ لیکن میں سوچتا ہوں، اگر وہ واقعی چلی گئی تو پھر کیا ہوگا؟
یہ BYC بھی ہمارے کسی کام کی نہیں — ان کے کہنے پر ہمیں فوج کے آگے جھونک دیا جاتا ہے یا بے گناہ لوگوں کو مروایا جاتا ہے، جو کہ ہماری روایت کے خلاف ہے۔ مجھے یہ ناحق خون پسند نہیں۔
ہمیں کہا گیا تھا کہ اس جنگ سے پنجابی فوج چلی جائے گی۔ لیکن میں سوچتا ہوں، اگر وہ واقعی چلی گئی تو پھر کیا ہوگا؟ کیا ایران ہماری مدد کرے گا؟ کیا افغانستان ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا؟ کیا بھارت اتنی دور آ کر ہماری حمایت کرے گا؟ یا ہم کسی اور سے لڑتے رہیں گے، اور پھر کسی اور سے؟ کیا ہم ہمیشہ کے لیے جنگ میں ہی رہیں گے، ہمیشہ کسی دشمن کی تلاش میں؟
کیا یہ سردار اپنی عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر ان پہاڑوں میں آئیں گے؟ یا ہمیشہ کی طرح عیش و عشرت میں ہی رہیں گے؟
ہم اپنی ہی زمین میں چور بن چکے ہیں۔ مکران کو دیکھو — کیا ہماری بات وہاں چلتی ہے؟ ژوب کو دیکھو — کیا وہاں ہماری کوئی حکمرانی ہے؟ ہم صرف چند علاقوں تک محدود ہو چکے ہیں، گھیرے میں، منقسم، ایک دوسرے سے کٹے ہوئے۔ اگر ہم اپنے ہی لوگوں کو متحد نہیں کر سکتے، تو ایک قوم کو کیسے متحد کریں گے؟ کیا یہ سردار اپنی عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر ان پہاڑوں میں آئیں گے؟ یا ہمیشہ کی طرح عیش و عشرت میں ہی رہیں گے؟
میں یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ میرا دل اپنے لوگوں کے لیے تڑپتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور بلوچ ماں اپنے بیٹے کو کھوئے، کوئی اور باپ اپنے بچے کی قبر کھودے
میں یہ الفاظ خوف کی وجہ سے نہیں لکھ رہا۔ میں بے شمار بار موت کا سامنا کر چکا ہوں، اس سے اب مجھے کوئی ڈر نہیں۔ لیکن میں یہ اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ میرا دل اپنے لوگوں کے لیے تڑپتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور بلوچ ماں اپنے بیٹے کو کھوئے، کوئی اور باپ اپنے بچے کی قبر کھودے۔ ہم نے کافی خون بہا دیا ہے۔ ہم نے کافی تکلیف سہہ لی ہے۔ اب مزید کس لیے؟
میں نہیں چاہتا کہ میں آخری بلوچ ہوں، جو راکھ کے ڈھیر پر کھڑا، بندوق تھامے، ایک ایسی قوم کے لیے لڑ رہا ہو جو باقی ہی نہ رہی ہو
مجھے جواب معلوم نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں — اگر ہم اسی طرح چلتے رہے، تو نہ لڑنے کے لیے کوئی بلوچ باقی رہے گا، نہ خواب دیکھنے کے لیے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میں آخری بلوچ ہوں، جو راکھ کے ڈھیر پر کھڑا، بندوق تھامے، ایک ایسی قوم کے لیے لڑ رہا ہو جو باقی ہی نہ رہی ہو۔
بھاری دل کے ساتھ
ایک بلوچ سرمچار

