واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار میں بھیجا جانا تھا۔
ناسا کی جانب سے پہلے 8 فروری کو مشن کے لیے تاریخ مقرر کی گئی تھی، جسے بعد میں مارچ تک کے لیے ملتوی کیا گیا تھا، اور اب اسے اپریل میں روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔
ناسا نے بتایا کہ راکٹ سسٹم کے اوپری حصے میں ہیلیم کے بہاؤ میں مسائل سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے مارچ میں مشن کو روانہ کرنا ممکن نہیں رہا۔
آرٹیمس 2 مشن میں چار خلا باز اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ کریں گے تاکہ مستقبل کے طویل مشنز ممکن ہو سکیں۔ مشن پہلے دو بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب جائے گا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، تاہم یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
آرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے، جس کے تحت 2027 میں انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا، جبکہ آرٹیمس 2 کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔
ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے کہا کہ آرٹیمس 2 مشن آئندہ سلسلہ وار مشنز کی پہلی کڑی ہوگا، جس کا مقصد مستقبل میں چاند پر مستقل اڈہ قائم کرنا اور مریخ کے مشنز کے لیے لانچ پیڈ کی بنیاد رکھنا ہے۔

