اسلام آباد مذاکرات میں بڑی پیش رفت، 14 گھنٹے طویل مذاکراتی سیشن کے بعد تکنیکی ٹیموں کی مشاورت جاری، اتوار کو دوبارہ بیٹھنے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان کی میزبانی میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات میں ایک اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 14 گھنٹے طویل اعصاب شکن سیشن کے بعد دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں نے باضابطہ طور پر تحریری مسودوں کا تبادلہ شروع کر دیا ہے۔
ایرانی حکومت اور سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق 3 بج کر 12 منٹ پر ایک اہم مرحلہ مکمل کرنے کے بعد ختم ہوئے۔
اگرچہ بعض امور پر تاحال اختلافات برقرار ہیں، تاہم فریقین نے پاکستان کی تجویز اور باہمی اتفاق رائے سے مذاکراتی عمل کو ختم کرنے کے بجائے وقفے کے بعد اتوار کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حل طلب معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یہ پیش رفت اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ فریقین کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والی اس بالمشافہ ملاقات کے دوران کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ماہرین اور تکنیکی سطح پر مزید گہری بات چیت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
ایرانی وفد نے مذاکرات کے کمرے میں موجود پاکستانی ثالث کے سامنے لبنان میں مکمل جنگ بندی کا معاملہ انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں ابھی تک مکمل جنگ بندی نہیں ہو سکی اور یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کو اپنے وعدوں کی پاسداری پر مجبور کرے۔
ایرانی حکام اس بات پر قائم ہیں کہ جب تک زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، مستقل امن کی جانب پیش رفت مشکل ہو گی، یہی وجہ ہے کہ ان باریکیوں کو تحریری معاہدے کا حصہ بنانے کے لیے مزید مشاورت کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان حساس مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جنہیں جیرڈ کشنر اور اسٹیو ویٹکوف کی معاونت حاصل ہے، جبکہ ایرانی وفد اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ محفوظ اور خفیہ مقام پر ہونے والی اس بات چیت کو عالمی سفارتی حلقے مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں ‘میک اور بریک’ (Make or Break) قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ تحریری مسودوں کا تبادلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی ثالثی رنگ لا رہی ہے اور دہائیوں پر محیط تنازعات کے حل کے لیے ایک ٹھوس ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے حتمی اعلان کے لیے دنیا کی نظریں اب اتوار کے سیشن پر جمی ہیں۔

