اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں علاقائی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 23 مارچ کو ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں امت کے اتحاد اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی رابطے کیے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ناروے، سعودی عرب، آذربائیجان، ترکیہ، مصر، عراق، متحدہ عرب امارات، ملائشیا اور ایران کے وزرائے خارجہ سے رابطے کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری حساس معاملات میں صبر، تحمل اور رازداری کا تقاضا کرتی ہے۔
دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں سری نگر کی مرکزی جامع مسجد کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ کئی برس سے اس مسجد کو بند رکھے ہوئے ہے، جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو دی گئی سزاؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہیں۔
ترجمان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں ممکنہ میزبانی کے لیے بھی تیار ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

