امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری، 15 نکات پر ایران غور کر رہا ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی صورت میں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے 15 نکات ایران کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل میں ترکیہ اور مصر سمیت دیگر برادر ممالک بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اس اہم سفارتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ مختلف ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اہم پڑوسی ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثبت ہیں، جبکہ ایران اپنی دفاعی پالیسی پر قائم ہے اور مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح رکھتا ہے۔

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔