اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کے دعوے کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے عید الفطر کے موقع پر کیے گئے عارضی وقفے کی مکمل پاسداری کی ہے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان رجیم کے الزامات سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہیں۔
وزارت کے مطابق اس قسم کے دعوؤں کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے جواز پیدا کرنا اور خطے میں کشیدگی بڑھانا ہو سکتا ہے، جبکہ یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا افغان طالبان کے اندر موجود بعض عناصر کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہو۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ اگر سرحد پار سے کسی بھی قسم کی دہشت گردی، ڈرون حملہ یا جارحیت ہوئی تو عارضی وقفہ فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا اور آپریشن دوبارہ پوری شدت کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے عید الفطر کے احترام اور سعودی عرب، ترکی اور قطر کی درخواست پر آپریشن غضب للحق کو عارضی طور پر معطل کیا تھا، جو 24 مارچ کی درمیانی رات تک برقرار رہے گا۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور سرحدی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قسم کے جھوٹے بیانیے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

