سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں کے بعد بلوچستان کی صورتحال قابو میں، 129 دہشتگرد ہلاک، 11 جوان شہید

سینئیر صحافی احمد منصور نے ٹویٹ کیا کہ میں بلوچستان کی تازہ صورتحال بتا رہا ہوں۔ آج صوبے کے مختلف علاقوں میں حملہ آور دہشتگردوں نے بیک وقت کارروائیوں کی کوشش کی، مگر سیکیورٹی فورسز نے ہر جگہ بروقت اور مؤثر جواب دے کر تمام حملے ناکام بنا دیے۔ اب تک آج 78 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ دو دنوں میں مجموعی ہلاکتیں 129 ہو گئی ہیں۔ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، پسنی، گوادر اور دیگر علاقوں میں فورسز نے دہشتگردوں کا تعاقب کیا۔ پسنی میں ڈی ایف اے / فائر ریڈ آپریشن کے دوران کمپاؤنڈ کلیئر کیا گیا، جہاں چھ دہشتگرد مارے گئے۔ فل آباد پوسٹ سمیت دیگر مقامات پر بھی جوابی کارروائی میں دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچا۔

ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے 10 سے 11 جوانوں کی شہادت ہوئی، جبکہ گوادر میں ایک بلوچ مزدور خاندان کے پانچ افراد بھی دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ یہ ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس وقت بلوچستان بھر میں صورتحال سیکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے، فضائی نگرانی اور فالو اپ آپریشنز جاری ہیں، اور کسی حساس تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔ الحمدللہ، بڑا دہشتگرد منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوان خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔


سینئیر صحافی طیب بلوچ نے بھی بلوچستان کی صورتحال پر ٹویٹ کیا کہ آج بلوچستان میں دہشتگردوں نے مختلف مقامات پر بیک وقت حملوں کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے ہر جگہ فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، پسنی اور گوادر سمیت کئی علاقوں میں دہشتگردوں کے منصوبے ناکام بنا دیے گئے۔ فورسز کے بروقت ردِعمل کے باعث متعدد دہشتگرد ہلاک ہوئے، کچھ فرار ہو گئے جبکہ بعض مقامات پر کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔ پسنی میں مشترکہ آپریشن کے دوران کمپاؤنڈ کلیئر کر لیا گیا اور وہاں بھی دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ موجودہ صورتحال میں تمام علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔

سینئیر صحافی جمشید خان نے ٹویٹ کیا کہ گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے غریب بلوچ مزدور اور اس کے پانچ اہل خانہ کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر سیکیورٹی فورسز نے تمام حملہ آور دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ پسنی میں جوابی کارروائی کے دوران پانچ مرد اور ایک خاتون دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا ایک جوان شہید ہوا۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر 58 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں، اور صبح سے جاری کارروائیوں کے بعد اب تک کل 78 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں 129 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے، جبکہ ایف سی کے 11 اہلکار شہید ہوئے۔ فتنہ الہندوستان کا نام نہاد آپریشن ہیروف 2 مکمل ناکام ہو گیا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں منظم حملوں کی سازش ناکام بنا دی گئی۔ بلوچستان کی صورتحال اب نسبتاََ معمول پر آ چکی ہے اور سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔