اگر خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیراعلیٰ بنا کر اس کی بیعت کرلیں؟ ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز کا بیانیہ ایک ہے اور اس مؤقف سے پاکستان کو کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔

جی ایچ کیو میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور اس میں ریاست، عوام اور سکیورٹی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سال 2025 میں پیغامِ پاکستان کے بیانیے کا ایک بار پھر اعادہ کیا گیا، جس پر علما اور مشائخ میں بھی مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی سال بھارت، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی، جبکہ کچھ نئے اور باریک وارداتی پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔

ان کے مطابق، افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن چکا ہے اور اب دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے، حتیٰ کہ ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی افغانستان سے دہشتگرد حملوں کی شکایات کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں اس وقت 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، جس کی بڑی وجہ وہاں دہشتگردوں کے لیے سازگار سیاسی ماحول کا فراہم کیا جانا ہے۔

انہوں نے سخت سوال اٹھایا کہ اگر آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے؟ انہوں نے خیبر پختونخوا کی قیادت کے بیانیے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے سکیورٹی کی ضمانت مانگنا تسکین کی کون سی پالیسی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال ثابت ہوا، جب ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ کارروائیاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں۔

گزشتہ سال 27 خودکش حملے ہوئے جبکہ 2597 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ چاہے دہشتگرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا، سب ایک جیسے ہیں، ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ریاست پاکستان دہشتگردی کی ہر شکل کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔