قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری، پی ٹی آئی اور اسپیکر کے درمیان اہم پیشرفت

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں تقرری کے عمل اور درپیش قانونی و سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، ملاقات کے دوران عامر ڈوگر نے عمر ایوب کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے خارج ہونے کی مصدقہ کاپی اسپیکر کو فراہم کی اور اپوزیشن لیڈر کی جلد تقرری کی درخواست کی۔

پی ٹی آئی چیف وہپ کا مؤقف تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نشست سے متعلق تمام کیسز واپس لے لیے گئے ہیں اور قانونی رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں، اس لیے اب تقرری میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں رہی۔

دوسری جانب، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن کے اندر محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات موجود ہیں۔

ان کے مطابق، اپوزیشن کے کئی اراکین نے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ محمود خان اچکزئی کو قبول نہیں کرتے۔

اسپیکر نے کہا کہ اگر اپوزیشن باقاعدہ طور پر ان کے پاس آئے تو وہ حکومت سے بات کر کے بطور سہولت کار کردار ادا کریں گے، تاہم تاحال اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔

ایاز صادق نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور وزیراعظم نے اس معاملے میں مکمل اختیار دیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین اور قواعد کے مطابق تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور اپوزیشن کو مشورہ دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتی دستاویزات کی فراہمی کے لیے پی ٹی آئی کو چار خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں اور آئندہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے باقاعدہ پراسیس کا آغاز کیا جائے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق، اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق ضروری ہوگی اور یہ عمل زیادہ وقت نہیں لے گا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتے ہیں، اگر کوئی غیر پارلیمانی فریق شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا۔