آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اے پی ایس کے معصوم بچوں اور اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ عظیم قربانیاں قوم کے اس پختہ اور غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں کہ دہشت گردی کو ہر صورت شکست دی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اے پی ایس کا اندوہناک سانحہ تاریخ کی بدترین انسانیت سوز کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے اور شہدا کی یاد اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ آج بھی ایک فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جہاں 90 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ملک کو بھاری معاشی و سماجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جو پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کا ثبوت ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر اور انہیں حاصل معاونت پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔
دفتر خارجہ نے زور دیا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے اور ہر قسم کی معاونت روکنے کے لیے ٹھوس عالمی اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ پاکستان اے پی ایس کے شہدا کی یاد میں عوام کے تحفظ، خودمختاری کے دفاع اور امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

