چنیوٹ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف آنے والا فیصلہ تاریخی ہے اور اس سے واضح پیغام جاتا ہے کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے روکنے کا باعث بنے گا جبکہ فیض حمید کے خلاف مزید ٹرائل بھی جاری ہیں۔
چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ "آج کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ فیض حمید طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ اب عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ غلط کام ہوا تھا۔” انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے پاس اپیل کے مختلف فورمز موجود ہیں۔
گورنر راج کے حوالے سے سوال پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر ابھی تک حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی باضابطہ مشاورت نہیں ہوئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاست سے خود حالات کو گورنر راج کی طرف دھکیل رہی ہے۔ "وفاق معاملات بات چیت سے چلانا چاہتا ہے مگر پی ٹی آئی مسلسل تصادم چاہتی ہے۔”
بلاول بھٹو زرداری نے بانی پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے سیاست میں نفرت، انتشار اور دھمکیوں کی روایات ڈالیں۔ جب وہ وزیراعظم تھے تو مخالفین کو نشانہ بنایا، آج خود جیل میں ہیں، یہ مکافاتِ عمل ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آئینی عدالت کا قیام عمل میں لا کر ملک میں بڑی آئینی کامیابی حاصل کی ہے۔ "یہ ہمارے نظریے اور منشور کی جیت ہے۔”
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق مالی مشکلات سے دوچار ہے لیکن صوبوں کے اختیارات کم کیے بغیر اس بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ "پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی معاشی بحالی میں بھرپور تعاون کرے گی۔”

