راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو اگر سزا ہوئی ہے تو یہ مکمل طور پر ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید ایک ادارے کے ملازم تھے، اس پر کوئی سیاسی بیان بازی مناسب نہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پہنچے لیکن پولیس کی جانب سے انہیں داخلی راستے پر روک دیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود روکنا سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم کسی اور ملک سے آئے ہیں؟ خیبرپختونخوا پاکستان کا حصہ ہے۔”
انہوں نے پنجاب پولیس کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہوا وہ ناقابلِ قبول تھا، یہ سب کچھ پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے احکامات پر کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید رکھا گیا ہے۔”
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے مائنس کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، مگر قوم ان سے عشق کرتی ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1947 سے ایک ہی فارمولہ آزمایا جاتا رہا ہے، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دے دیا ہے اور "ہم محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اس کے اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں، اس لیے اگر صاحبِ اختیار لوگ بہتر سمجھتے ہیں تو مذاکرات کے لیے آئیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی صفر ہے اور نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ "ساڑھے تین سال کا تجربہ بری طرح ناکام ہوگیا، پاکستان تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔”
اپنے پرسنل مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا پاسپورٹ بھی کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا ہے، حالانکہ میں اپنے لیڈر سے ملنے آتا ہوں جو میرا جمہوری حق ہے۔

