آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز کی شمولیت کی منظوری، جسٹس منیب، جسٹس منصور اور دو پی ٹی آئی ارکان کی مخالفت
آئینی بینچ کے ججز کی تعداد 13 ہو گئی، پی ٹی آئی نے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں آئینی بینچ میں مزید پانچ ججوں کی شمولیت کی منظوری دے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں آئینی بینچ میں ججوں کے اضافے پر غور کیا گیا اور اس پر اتفاق کیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز کے اضافے کی منظوری دی، جن میں جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامر فاروق، جسٹس شکیل احمد، جسٹس اشتیاق ابراہیم خان اور جسٹس صلاح الدین پنہور شامل ہیں۔ نئے ججز کی شمولیت سے آئینی بینچ میں خیبرپختونخوا سے دو، بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد سے ایک ایک جج شامل کیا گیا ہے۔
آئینی بینچ میں پانچ مزید ججز کی شمولیت کے بعد اب آئینی بینچ کے ججز کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز شامل کرنے کی منظوری اکثریت سے دی گئی، لیکن جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ اور پی ٹی آئی کے دو ممبران علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے اس پر مخالفت کی۔ ان ممبران نے رائے دی کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز کو آئینی بینچ میں شامل کیا جائے۔
پی ٹی آئی نے آئینی بینچ میں ججز کی شمولیت کے لیے طریقہ کار طے کرنے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ آئینی بینچ میں ججز کا انتخاب آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

