سندھ کو ذمہ داری ملے تو وفاق سے زیادہ ٹیکس جمع کر دکھائیں گے، بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت سندھ کو مزید مالی ذمہ داریاں سونپے تو صوبائی حکومت نہ صرف ٹیکس ہدف پورا کرے گی بلکہ اس سے زیادہ ریونیو جمع کر کے وفاق کو فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ وہ کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نئے او پی ڈی بلاک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم اور مالی وسائل کی تقسیم پر اعتراض کرنے والوں کو این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی اور این آئی ایچ جیسے اداروں کی کامیابیاں نظر نہیں آتیں، جہاں صوبائی حکومت نے عالمی معیار کا مفت علاج فراہم کر کے عوام کا اعتماد جیتا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کے کچھ وزرا وفاقی بحران کا بہانہ بنا کر صوبوں سے اختیارات واپس لینا چاہتے ہیں، حالانکہ حل اسی میں ہے کہ سب مل کر مشکلات کا مقابلہ کریں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاق ہمیں جنرل سیلز ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری دے تو ہم مقررہ ہدف سے زیادہ وصولیاں کریں گے اور مکمل رقم وفاق کو فراہم کریں گے، حتیٰ کہ اگر ہم ٹارگٹ پورا نہ کرسکے تو اپنا حصہ بھی دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے ایف بی آر سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سروسز سیلز ٹیکس کی ریکوری میں ریکارڈ قائم کیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کی شاندار کارکردگی اٹھارہویں ترمیم کے ناقدین کے لیے واضح جواب ہے، جس نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پاکستان کا سب سے بڑا مفت دل کا علاج فراہم کرنے والا نیٹ ورک قائم کر دکھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری کے نتیجے میں سندھ نے صحت کے شعبے میں جو ترقی کی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل کی منتقلی صحیح فیصلہ تھا۔