11ویں این ایف سی اجلاس میں 7 ورکنگ گروپس قائم کرنے کا فیصلہ، وفاق و صوبے مالیاتی اصلاحات پر متفق

اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزارت خزانہ کے علاوہ چاروں صوبوں نے اپنی مالی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان و پنجاب کے وزرائے خزانہ اور پرائیویٹ ممبران بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مالیاتی امور کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے 6 سے 7 ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ سابق فاٹا کے مالیاتی معاملات کے لیے ایک علیحدہ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق این ایف سی کا اگلا اجلاس 8 یا 15 جنوری کو متوقع ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اجلاس آئینی ذمہ داری اور بین الصوبائی تعاون بڑھانے کا اہم موقع ہے۔ ان کے مطابق، وفاقی حکومت نے این ایف سی کے افتتاحی اجلاس میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور وزیراعظم نے اجلاس جلد بلانے میں خصوصی دلچسپی لی۔ انہوں نے بتایا کہ تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے اجلاس مؤخر کرنا پڑا تھا، تاہم اب تمام صوبے بھرپور تعاون کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم این ایف سی کا کردار ملک میں مالیاتی استحکام، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی سے متعلق غلط فہمیوں اور قیاس آرائیوں کا واحد حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر قدم ہے، جو اجتماعی عزم اور قومی مفاد کے لیے مشترکہ کوششوں کا ثبوت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبوں کا لازمی سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد میں تعاون قابلِ تحسین ہے۔

اجلاس میں شریک صوبائی رہنماؤں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ آنے والے مہینوں میں این ایف سی ایوارڈ کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور ورکنگ گروپس اپنی سفارشات جلد پیش کریں گے۔ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ورکنگ گروپس کے قیام سے مالیاتی امور کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب، وزارت منصوبہ بندی نے وسائل کی تقسیم میں دو نئے طریقہ کار وزیراعظم کو پیش کر دیے ہیں، جن میں دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹر سکیورٹی اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے قابل تقسیم محاصل سے ڈھائی فیصد کٹوتی کی تجویز بھی شامل ہے۔

دوسری تجویز کے مطابق، بی آئی ایس پی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات قابل تقسیم محاصل سے پہلے منہا کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے وفاق کے حصے میں آئندہ سالوں میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید برآں، صوبوں کے درمیان تقسیم میں آبادی کا وزن کم کرتے ہوئے ریونیو جنریشن، زرخیزی اور جنگلات کے رقبے جیسے عوامل بڑھانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔