پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنی تفصیلی تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہیں، جن کا مقصد وفاقیت، صوبائی حقوق اور معاشی انصاف کو مضبوط بنانا ہے۔ پارٹی کی جانب سے آئینی، انتظامی اور مالیاتی اصلاحات پر مبنی یہ تجاویز وفاق کو باقاعدہ طور پر پہنچا دی گئی ہیں۔
اے این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ آبی بجلی پیدا کرنے والے صوبوں پر تمام وفاقی ٹیکس اور سرچارجز ختم کیے جائیں، جبکہ ان صوبوں کے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 10 روپے فی یونٹ تک مقرر کی جائے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ہائیڈل پاور پیدا کرنے والے صوبے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے انہیں آئینی سطح پر مالی ریلیف دیا جانا ضروری ہے۔
تجاویز میں تمباکو کاشتکاروں سے متعلق اہم نکات بھی شامل ہیں۔ اے این پی نے کہا ہے کہ تمباکو اگانے والے کسانوں پر عائد تمام ٹیکسز فوری طور پر ختم کیے جائیں، جبکہ کچے تمباکو پر وصول ہونے والا مکمل ٹیکس صوبوں کو دیا جائے تاکہ مقامی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔
پارٹی نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی مضبوط آئینی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی چاہتی ہے کہ ملک بھر میں مستقل اور خودمختار بلدیاتی حکومتیں قائم کی جائیں، بلدیاتی انتخابات ہر چار سال بعد باقاعدگی سے کرائے جائیں اور انتظامیہ کو ان نظاموں میں مداخلت سے مکمل طور پر روک دیا جائے۔
اے این پی نے اپنی تجاویز میں صوبے کا نام خیبرپختونخوا سے بدل کر "پختونخوا” رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق صوبے کی تاریخی شناخت اسی نام سے وابستہ ہے، جسے آئینی دستاویزات میں تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اے این پی کا کہنا ہے کہ اس کے تمام مطالبات ملک میں وفاقیت کے توازن، صوبائی حقوق کے تحفظ اور معاشی مساوات کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں، اور انہیں آئندہ آئینی ترمیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔

