راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو عارضی عدالتی تحویل میں لینے کے بعد دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کر دیا، جہاں وہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں پیش ہوئیں۔
سماعت کے دوران، علیمہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، لہٰذا انہیں عدالت سے جانے کی اجازت دی جائے، تاہم پراسیکیوٹر نے کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 351 کے تحت مؤقف اپنایا کہ ملزمہ عدالتی تحویل میں ہیں اور عدالتی اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتیں۔
اس دوران، جب علیمہ خان عدالت سے باہر نکلیں تو خواتین پولیس اہلکاروں نے انہیں فوراً تحویل میں لے کر دوبارہ عدالت کے اندر منتقل کر دیا، جہاں جج نے ہدایت دی کہ ملزمہ عدالتی احاطے سے باہر نہ جائیں۔
بعد ازاں، ان کے وکیل فیصل ملک پہنچ گئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ گواہوں کے بیانات کے سلسلے میں آج پیش ہونا ممکن نہیں، جس پر عدالت نے وکلائے صفائی کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے اس دوران گواہوں کے بیانات میں مبینہ رکاوٹ پر علیمہ خان پر دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ یکم دسمبر کو ان کے بینک اکاؤنٹس کی بحالی اور دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے اخراج کی درخواست پر بھی دلائل دیے جائیں گے۔
عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان اور ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے انہیں غیرقانونی طور پر تحویل میں لینے کی کوشش کی گئی، جبکہ جج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ شوکت خانم اور نمل کے اکاؤنٹس کا فریز ہونا غیرقانونی ہے، کیونکہ وہ کسی کیس میں مجرم قرار نہیں پائی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلاحی اداروں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ وہ صرف بانی پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کی وجہ سے مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 26 نومبر کے شہداء کو آج خراج عقیدت پیش کرتی ہوں، اور ملک میں بڑھتی ہوئی خوف کی فضا آئینی ترامیم اور عدالتی کارروائیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ عدالت واضح کر چکی ہے کہ علیمہ خان کے مقدمے میں اگلی سماعت فیصلہ کن ہوگی، جہاں گواہوں کی طلبی، بینک اکاؤنٹس کی بحالی اور دہشت گردی کی دفعات کے اخراج سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔

