اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے 1.21 ارب ڈالر کی قسط کے لیے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری کے بعد حکومتِ پاکستان سے زیادہ لاگت پر مبنی سستا پیٹرول دینے والی فیول سبسڈی اسکیم ‘بلاتاخیر ختم’ کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار انتہائی وسیع اور معیشت پر بوجھ ہے۔
یاد رہے کہ اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں اور 800 سی سی گاڑیوں کے 84 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ صارفین کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا تھا۔
فنڈ نے واضح ہدایت کی ہے کہ وسیع فیول اسکیم کو فوری بند کیا جائے اور مستقبل میں اگر عالمی مارکیٹ کی وجہ سے کوئی ریلیف دینا ضروری ہو تو وہ صرف اور صرف انتہائی مستحق افراد تک محدود اور مخصوص مدت کے لیے ہونا چاہیے۔
اعلامیے میں آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ مالی سال 2026 میں جولائی تا مارچ پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 4 فیصد رہی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے یہ 3.6 فیصد تک متاثر ہو سکتی ہے۔
فنڈ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سمیت گیس سیکٹر کے نقصانات کم کرنے کی سخت سفارشات کی ہیں۔

