خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت کی کرپشن کی فائلیں کھلنے لگیں، نیب متحرک، مراد سعید اور ڈاکٹر امجد علی سمیت اہم معاملات میں تحقیقات آگے بڑھ گئیں
خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران پی ٹی آئی کے جس وزیر یا مشیر کا ریکارڈ کھنگالا جائے، اس کے گرد مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے سوالات سامنے آنے لگتے ہیں۔ عوامی وسائل سے پیسہ بنانے کی فیکٹریاں بنے ہوئے تھے، ناجائز ہتھکنڈوں کے الزامات اور اختیارات کے استعمال سے جڑے معاملات ایک ایسے نیٹ ورک کی تصویر پیش کر رہے ہیں جس کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اقتدار کے اس بہتے دھارے میں ہاتھ دھونے والوں نے شاید یہ سوچا ہی نہیں کہ اختیار ہمیشہ ان کے پاس نہیں رہے گا، عہدے ختم ہوں گے اور ایک دن ان کے مالی معاملات کی چھان بین بھی ہو سکتی ہے۔ اب مختلف معاملات کے ریکارڈ اور دستاویزات سامنے آنے کے ساتھ تحقیقات کا دائرہ آگے بڑھ رہا ہے۔ نیب کو ان معاملات میں کن شواہد اور ریکارڈ کی بنیاد پر پیش رفت کرنا ہے، یہ تحقیقات طے کریں گی، لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کی ایک بڑی کارروائی کے آغاز کے آثار ضرور نمایاں ہو رہے ہیں۔
نیب خیبرپختونخوا کی تازہ کارروائیاں بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت میں سرکاری وسائل اور اختیارات کے استعمال سے متعلق پرانے معاملات اب دوبارہ سامنے آنے لگے ہیں۔ وزرا، مشیروں اور حکومتی عہدوں پر فائز رہنے والے رہنماؤں کے خلاف زیرِتحقیق معاملات کی فائلیں کھلنے کے ساتھ نیب خیبرپختونخوا نے دو الگ کیسز میں 8 گواہوں کو طلبی نوٹس جاری کر دیے۔
مراد سعید کیس میں مبینہ بے نامی جائیدادوں کی خریداری میں بدعنوانی اور بدعنوان طرزِ عمل کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس کیس میں 3 گواہوں کو 27 اور 28 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر امجد علی کیس میں آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی اور دیگر کے خلاف نیب نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 19 کے تحت پانچ نوٹس جاری کیے ہیں۔ تحقیقات میں آمدن کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثوں، بدعنوانی اور بدعنوان طرزِ عمل کے الزامات شامل ہیں۔
نیب نے اس کیس میں باچا سید، محمد عارف شاہ، سراج احمد اور نوید احمد سمیت چار گواہوں کو 20 سے 22 اکتوبر تک طلب کیا ہے۔ ایٹین ہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد اور جلوزئی ہاؤسنگ اسکیم میں جائیدادوں کی الاٹمنٹ، ملکیت اور ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دفتر سے تنخواہوں، الاؤنسز، مراعات اور سفری اخراجات کی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طویل حکمرانی کے دوران مختلف سرکاری محکموں، ترقیاتی منصوبوں اور مالی معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اب ماضی کی انکوائریوں اور زیرِالتوا معاملات پر کارروائی آگے بڑھنے سے سابق حکومتی عہدیداروں کے مالی معاملات بھی جانچ پڑتال کے دائرے میں آ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت میں کون کون سے عہدے دار، کن منصوبوں اور کن مالی معاملات میں تحقیقات کی زد میں آتے ہیں؟ نیب کی موجودہ کارروائیاں اس حوالے سے اہم پیش رفت ہیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل سے متعلق ماضی کے معاملات کی فائلیں کھلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اب مراد سعید کیس ہو یا ڈاکٹر امجد علی کیس، تحقیقات میں سامنے آنے والے ریکارڈ اور شواہد ہی طے کریں گے کہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور قانون کے مطابق اگلا قدم کیا ہوگا۔

