مانتے کیوں نہیں پرنٹ میڈیا کولیپس کر چکا

تحریر: احمد منصور

کب تک ایک کھلی حقیقت سے آنکھیں چراتے رہیں گے؟

کب تک پرنٹ میڈیا کے بچے کچھے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو سسک سسک کر مرنے دیں گے؟

حقیقت بتائیں۔ جنگ، ایکسپریس، دنیا، نوائے وقت، خبریں، پاکستان سمیت تمام اخبارات اور ان کے مالکان جھوٹ بولتے ہیں۔

کھائیں قسم کیا بتائی جانے والی سرکولیشن کھلا دھوکہ نہیں؟

سچ بتائیں۔ حکومتوں کو بھی اس حقیقت کا علم ہے، لیکن بوجوہ ہمت نہیں کر پاتیں۔

حقیقت کا سامنا کریں۔ پرنٹ میڈیا کو زندہ لاش بنائے رکھنے کے بجائے دفن کریں اور مستقل حل نکالیں۔

حکومتیں پرنٹ میڈیا کو حتمی طور پر ڈیجیٹل ورژنز میں منتقل کریں، اشتہارات کا نظام اسی کے مطابق بنا لیں، روایتی پرنٹ ایڈیشنز کو مستقل طور پر بند کر دیں۔

جو صحافی اور میڈیا ورکرز پرنٹ ورژنز کی بندش، ڈیجیٹل تقاضے سیکھنے اور انہیں عملی طور پر اپنانے سے قاصر ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہوں، انہیں متبادل روزگار فراہم کرنے کے لیے ایک جامع اسکیم متعارف کرائی جائے۔

یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔

پرنٹ میڈیا کو ملنے والے اشتہارات کے لالچ میں اخبارات گھسیٹ گھسیٹ کر چلانے سے تمام ادارے بیگار کیمپ بنے ہوئے ہیں۔

حوصلہ کریں، قدم اٹھائیں۔ سالانہ اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات حکومتوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہے۔ اس بجٹ کو ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی جانب منتقل کرکے حقیقی معنوں میں بیانیے کی جنگ کے لیے وسائل فراہم کریں۔

بس صرف ایک بنیادی بات کا خیال رکھیں۔

اس سارے عمل میں بے روزگار ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے متبادل روزگار کی ایک میگا اسکیم کی فراہمی اس انقلابی قدم کا لازمی جزو ہو۔

گورنر راج لگانا ہو لگ جاتا، ایمرجنسی بھی لاگو ہو جاتی۔ نئے صوبے بھی بن جانے۔ تو پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کی مکمل اوورہالنگ بھی حکومتی مدد اور ڈنڈے کے بغیر ممکن نہیں۔ ورنہ مالکان نے اپنی بوٹی کی خاطر صحافیوں، ورکروں کی کھال ادھیڑتے رہنا ہے۔۔اور سرکاری وسائل کی گائے ذبح کرتے رہنا ہے۔

پرنٹ میڈیا کولیپس کر چکا ہے۔ اسے چلاتے رہنے کی کوئی تک نہیں۔

صحافی و تجزیہ نگار احمد منصور کا ایکس ہینڈل
X@AhmedMansorReal