خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ یا گورنر راج: ایوانِ صدر کے اجلاس میں آئینی آپشنز پر اتفاق، وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب

اسلام آباد: وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ‘لانگ مارچ’ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جس کی حتمی منظوری کے لیے کل (اتوار) صبح 9:30 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آئی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ، اور پی پی پی رہنماؤں شیری رحمان، سید نوید قمر و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے کی سیکیورٹی و امن و امان سے متعلق بھجوائی گئی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت مختلف آئینی آپشنز پر تفصیلی مشاورت کی گئی، جبکہ منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع (بشمول سابق فاٹا کے 8 ضم شدہ قبائلی اضلاع اور ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں و لکی مروت) میں ایمرجنسی کے نفاذ اور کچھ اہم اختیارات وفاق کے سپرد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

دوسری جانب، وزیراعظم نے جی یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کر کے انہیں وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی دعوت دی ہے تاکہ تمام سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ وفاقی کابینہ کے کل ہونے والے اجلاس کے بعد گورنر راج یا ایمرجنسی کی سمری کی منظوری اور حتمی اعلان متوقع ہے۔