واشنگٹن: امریکی دفاعی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون نے ایران کے خلاف ایک نیا اور شدید 3 روزہ فوجی آپریشن کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ فوجی کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، لانچنگ تنصیبات، اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانا ہے۔
تاہم فوجی حکمتِ عملی تیار ہونے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے پہلے ایران کے خلاف کوئی نیا عسکری حملہ نہیں کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ جاری "مثبت” بات چیت اور سفارتی رابطوں کو قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں تین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں (Aircraft Carriers) اور ہزاروں اضافے اہلکاروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر پینٹاگون کے تیار کردہ 3 روزہ آپریشنل منصوبے پر فوراً عمل درآمد کیا جا سکے۔

