ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبات نہیں منوائے جا سکتے، پی ٹی آئی مذاکرات کرے: رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر یا احتجاجی سیاست کے ذریعے کوئی بھی مطالبہ تسلیم نہیں کروایا جا سکتا۔ پی ٹی آئی ذاتی مفادات اور اسلام آباد پر چڑھائی کا ایجنڈا چھوڑ کر مسائل کے حل کی طرف آئے اور دھرنا منسوخ کرے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور اسلام آباد کا گھیراؤ 2014 سے پی ٹی آئی کی سیاست کا بنیادی نکتہ رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ان کے لانگ مارچ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور وہ چند ہزار لوگ بھی اکٹھے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر صوبائی وسائل کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو درکار بجٹ اور وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ امن و امان کے سنجیدہ امور پر توجہ دے رہے ہیں۔

مشیر وزیراعظم نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی نیا بڑا ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا اور نہ ہی نئے آئی ڈی پیز بنیں گے، بلکہ پہلے سے جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہی جاری رہیں گے۔

افغان پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، پوری قوم اس پالیسی پر متفق ہے لیکن پی ٹی آئی اس قومی ایجنڈے کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہائی عدالتوں سے ملے گی، چڑھائی کی سیاست سے نہیں۔