آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا ایرانی دعویٰ، امریکی سینٹ کام نے مسترد کر دیا

تہران: ایران کی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل نظامی کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس دعوے کو شدید رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بحریہ کو تباہ کیا جا چکا ہے اور وہ اس اہم بحری گزرگاہ پر کوئی اختیار نہیں رکھتی۔

ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ، خود آبنائے اور خلیج فارس پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں، جبکہ مشرقی حصے اور شمالی بحرِ ہند پر ایرانی بحریہ تعینات ہے اور کسی کو بھی غیر قانونی طریقے سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج نے اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں کمزوریوں کا خاتمہ کر لیا ہے اور وہ ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر جاری بیان میں ایرانی دعوے کو حقیقت کے برعکس قرار دیا۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب ایران کے پاس فعال بحریہ نہیں بچی۔

امریکی فوج نے موقف اپنایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسی راستے سے 2 ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا اور ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل منتقلی کے عمل سے گزر چکا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کا اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔