پاکستان کے لاجسٹکس سیکٹر میں ایک بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے جدید روڈ فریٹ لاجسٹکس کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ حال ہی میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) اور ڈی پی ورلڈ لاجسٹکس کے درمیان ایک تاریخی جائنٹ ونچر کی منظوری دے دی ہے، جو ملک میں جدید سفری سہولیات اور تجارتی نقل و حمل میں انقلاب لانے کے لیے کام کرے گا۔
اس شراکت داری کے تحت این ایل سی کے پاس 60 فیصد جبکہ ڈی پی ورلڈ کے پاس 40 فیصد شیئرز ہوں گے۔ اس جائنٹ ونچر کا مقصد پاکستان کے روڈ فریٹ لاجسٹکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے اور نقل و حمل کے اخراجات میں کمی ہو۔
یہ منصوبہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (SIFC) کی ان کاوشوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس منصوبے سے پاکستان میں نہ صرف نقل و حمل کا نظام بہتر ہوگا بلکہ تجارتی مسابقت بھی فروغ پائے گی، جس سے ملکی معیشت کو مزید استحکام ملے گا۔
پاکستان کے لیے ممکنہ فوائد
- کم لاگت اور زیادہ مؤثر سفری سہولیات: جدید لاجسٹکس ماڈل سے نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
- تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ: بہتر لاجسٹکس کے باعث کاروباری افراد اور برآمد کنندگان کے لیے سہولت پیدا ہوگی۔
- بنیادی ڈھانچے کی ترقی: نئی سرمایہ کاری سے سڑکوں اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آئے گی۔
- روزگار کے مواقع: اس جائنٹ ونچر سے ہزاروں نئے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔
کمپٹیشن کمیشن کے اس فیصلے کو پاکستان کے لاجسٹکس سیکٹر کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو ملکی معیشت میں استحکام اور ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

