واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بنا سکتا اور واشنگٹن کو ہر صورت اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ عسکری ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں اسرائیل ایک اہم شراکت دار ہے، تاہم بعض اوقات دونوں ممالک کے موقف میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدارتی دور میں ٹرمپ نے متعدد بار ثابت کیا ہے کہ امریکی مفادات کی خاطر وہ نیتن یاہو سے مختلف رائے رکھنے یا ان سے راہیں جدا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
انہوں نے نیٹو اتحادیوں کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ جیسے نیٹو سے مضبوط تعلقات کے باوجود یورپی خارجہ پالیسی کو ان کے تابع نہیں کیا جاتا، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی پالیسی کو آزادانہ اور امریکی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی مضبوط ہیں اور ایران کے خلاف کارروائی صرف اسرائیل کا نہیں بلکہ خود امریکا کا اپنا دفاع ہے۔

