اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشنرز کی سہولت کے لیے پنشن کی ادائیگی کا پرانا کاغذی طریقہ مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے صرف ڈیجیٹل پنشن نظام کے ذریعے ادائیگی اور ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا ایس او پی جاری کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوارشانہ قواعد کے مطابق اب پنشن کی رقم براہِ راست پنشنرز کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوگی۔ بینکوں سے بائیومیٹرک تصدیق یا لازمی لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا کردار ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مارچ اور ستمبر کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
اب پنشنرز کو ہر 180 دن (6 ماہ) میں ایک بار نادرا کی پاک آئی ڈی (Pak ID) ایپ یا مجاز نادرا مراکز و ای-سہولت کاؤنٹرز سے ڈیجیٹل تصدیق کروانا ہوگی، جس کا سگنل براہِ راست کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) کو موصول ہو جائے گا۔
نئے ایس او پی کے تحت اب صرف تصدیق نہ ہونے پر بینک پنشن اکاؤنٹس کو غیر فعال نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی ڈیبٹ پر پابندی لگا سکیں گے۔ 6 ماہ تک ڈیجیٹل تصدیق نہ ملنے پر پنشن کو عارضی طور پر ‘سسپنس اسٹیٹس’ میں رکھا جائے گا، اور تصدیق مکمل ہوتے ہی روک دی گئی رقم اور بقایا جات خودکار طور پر بحال کر دیے جائیں گے۔ انتہائی عمر رسیدہ یا معذور پنشنرز ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر سے دستی تصدیق یا فارم 10 اور 12 کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ جمع کروا سکتے ہیں۔

