7 کھلاڑیوں کو ہٹانے پر پی سی بی نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہوگا: بابر اعظم

برمنگھم: قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل پہلی بار پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے اختتام پر 7 کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ پی سی بی کا اپنا تھا، جس کے بارے میں انہیں پی سی بی کے باضابطہ اعلان کے بعد ہی علم ہوا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے اسکواڈ میں کی جانے والی غیر متوقع اور بڑی تبدیلیوں سے متعلق سوالات پر محتاط موقف اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے جو فیصلہ کیا ہے وہ یقیناً کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا اور بورڈ ہی اس کی بہتر وضاحت کر سکتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ خود بھی اس اچانک فیصلے پر حیران ہوئے تھے، تاہم انہوں نے نئے شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں کے لیے اس موقع کو سنہری قرار دیا اور کہا کہ ان لڑکوں کے لیے یہ دباؤ نہیں بلکہ خود کو ثابت کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز سے ہونے والی شکست پر بات کرتے ہوئے قومی کپتان نے تسلیم کیا کہ ٹیم نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں مایوس کن کھیل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم سیریز ہار چکے ہیں لیکن خواہش ہے کہ برمنگھم میں مثبت اور اچھی کرکٹ کھیل کر سیریز کا اختتام فتح کے ساتھ کریں۔

دوسری جانب پی سی بی نے دورہ انگلینڈ کے دوران قومی کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور رویئے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر داخلی تادیبی انکوائری کا بھی آغاز کر دیا ہے۔