اسلام آباد: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (وارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بن چکا ہے اور اس وقت ملک میں 4 کروڑ پاکستانیوں کے کرپٹو کرنسی میں اکاؤنٹس موجود ہیں۔
رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین وارا نے بتایا کہ جہاں ملک میں فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 60 لاکھ ہے، وہیں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مالیاتی نظام بدل رہا ہے اور دبئی، سنگاپور، ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ کی طرز پر پاکستان میں بھی صارفین کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ریگولیٹری رجیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
بلال بن ثاقب نے خبردار کیا کہ 5 ستمبر کے بعد ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی غیر قانونی ڈیجیٹل کمپنیوں کے خلاف بلا تفریق سخت ترین کارروائی کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معروف کرپٹو ایکسچینجز ‘بائی نانس’ اور ‘ایچ ٹی ایکس’ نے این او سی (NOC) کے لیے اپلائی کر دیا ہے، جبکہ اتھارٹی بیرونی ترسیلاتِ زر کو ڈیجیٹل بنیادوں پر لانے اور اسلامک فنانسنگ کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے میں پیش رفت کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی اہمیت کے پیشِ نظر وارا سے آئندہ اجلاس میں دوبارہ تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔

