ریاض: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست فضائی و فوجی کارروائی کی سعودی عرب کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایکسیوس’ اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر متعدد بار رابطہ کر کے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں اور سعودی سرزمین پر حوثی حملوں کے پیشِ نظر براہِ راست امریکی فضائی کارروائی پر زور دیا۔
تاہم صدر ٹرمپ نے نئے فوجی محاذ کے کھولے جانے اور تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فی الحال حوثیوں پر حملوں سے انکار کر دیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی تمام تر توجہ ایران پر مرکوز رکھنے اور آبنائے ہرمز کی تحفظ کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریں اثنا، بحیرہ احمر اور باب المندب میں حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی مشاورتی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ امریکا نے براہِ راست فوجی مداحلت سے گریز کیا ہے، تاہم اس نے سعودی عرب کو مکمل انٹیلی جنس ڈیٹا، جیو اسپیشل مانیٹرنگ اور دفاعی تعاون کی فراہم کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے جس پر پاکستان سمیت عالمی برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

