فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا کیس، حامد خان کے دلائل مکمل

اسلام آباد: سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت میں وکیل حامد خان نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، جس کے بعد وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب کا آغاز کیا۔

عدالتی کارروائی کا خلاصہ

سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت کی۔ وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا:

  • سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔
  • آئین میں فوج کو عدالتی اختیارات حاصل نہیں۔
  • ماضی میں 1973 کے آئین سے پہلے فوجی عدالتوں کی گنجائش تھی، لیکن دسویں ترمیم کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوگئی۔

عدالت کے ریمارکس

  • جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ 26ویں ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کہاں ہوسکتی ہے؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا دائرہ اختیار محدود ہے۔
  • جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی اجازت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا آرمی ایکٹ کے تحت درج جرائم کرنے پر فوجی عدالتوں کا دائرہ اختیار سویلینز تک بڑھایا جا سکتا ہے؟
  • جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں کہا گیا کہ فوجی عدالتیں آرٹیکل 175(3) کے زمرے میں نہیں آتیں، اس معاملے میں مزید وضاحت ضروری ہے۔

وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل

وکیل حامد خان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب شروع کیا۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ بہت سے نکات سامنے آئے ہیں، جن پر تفصیل سے دلائل دینا ہوں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے آپ کے دلائل میں ایک ہفتہ لگ جائے گا، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا ممکن ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔