ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپے کا شارٹ فال، ایف بی آر نے تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کر دیں

اسلام آباد: پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں قرض پروگرام کی قسط کے فوری اجرا کے لیے اہم معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپے کا خسارہ

ایف بی آر حکام نے ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپے کے شارٹ فال سے متعلق تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کر دی ہیں۔ مذاکرات میں رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیوریجز اور تمباکو سیکٹر کے ٹیکس ریلیف پر بھی غور کیا گیا۔

ٹیکس اصلاحات اور بجٹ تجاویز

وزارت خزانہ نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، مالیاتی خسارہ کنٹرول کرنے اور بین الاقوامی فنانسنگ پر بریفنگ دی۔ حکام نے آئی ایم ایف کو آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے سمیت دیگر شعبوں پر ٹیکس میں کمی کی تجاویز بھی دیں، جبکہ ریٹیل سیکٹر سمیت مختلف صنعتوں سے 250 ارب روپے ٹیکس وصولی کے منصوبے پر بات ہوئی۔

توانائی شعبے میں اصلاحات

وزارت پیٹرولیم اور توانائی حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ گردشی قرض میں کمی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1,250 ارب روپے 10.8% شرح سود پر قرض لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بجلی بلوں میں کمی، ریکوری اور لائن لاسز کم کرنے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

آج کے مذاکرات میں آئی ایم ایف حکام ان تجاویز پر اپنا ردعمل دیں گے، جس کے بعد قرض پروگرام کی قسط کے اجرا کے امکانات واضح ہوں گے۔