ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام: موساد سربراہ نے 2 سینئر عہدیداروں کو ہٹا دیا

تل ابیب: ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے اور ملک گیر احتجاج بھڑکانے کے تحریری منصوبے کی ناکامی کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نئے سربراہ رومن گوفمان نے دو انتہائی سینئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق برطرف یا تبدیل کیے جانے والے افسران میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔

ان دونوں عہدیداروں نے ایران میں نسلی و لسانی اقلیتوں، بالخصوص کرد گروہوں کی مدد سے اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ کرنے کا ایک تفصیلی آپریشنل منصوبہ تیار کیا تھا، جس پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی غور کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس کی پیشکش کی گئی تھی۔

منصوبہ اور اہم انکشافات:

  • کرد محاذ: منصوبے کے تحت ایران عراق سرحد کے قریب پاسدارانِ انقلاب اور سیکیورٹی اڈوں پر فضائی حملے کر کے کرد جنگجوؤں کی پیش قدمی کا راستہ ہموار کرنا تھا تاکہ ملک گیر سطح پر حکومت مخالف تحریک شروع کی جا سکے۔
  • احمدی نژاد کا نام: رپورٹ میں یہ حیران کن دعویٰ بھی سامنے آیا کہ منصوبے میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی تجویز شامل تھی، تاہم ان کے دفتر نے ایسے کسی بھی رابطے کی سختی سے تردید کی ہے۔
  • امریکی تحفظات: امریکہ نے شروع میں اس منصوبے کا جائزہ لیا، تاہم تفصیلات میڈیا میں لیک ہونے، ترکی کی سفارتی مداخلت اور سی آئی اے کے حکام کی جانب سے اس منصوبے کو غیر حقیقی قرار دیے جانے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حمایت واپس لے لی۔

موساد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے نئے سربراہ رومن گوفمان کی جانب سے ادارے میں کی جانے والی وسیع تنظیمی اصلاحات کا حصہ ہیں اور دونوں افسران کو ادارے کے اندر دیگر ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔