افغان حکومت کو پاکستان سے تعلقات یا ٹی ٹی پی کی حمایت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: دفترِ خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران افغان حکومت پر واضح کیا ہے کہ کابل انتظامیہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے اور مستحکم تعلقات چاہتی ہے یا کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت۔ جب تک افغان حکومت ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات ختم نہیں کرتی، دوطرفہ تعلقات میں بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے عالمی ڈونرز پر بھی زور دیا کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی مالی امداد کی جانچ پڑتال کریں تاکہ یہ رقم دہشت گردی میں استعمال نہ ہو۔

ترجمان نے بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوا ہے، جس میں داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود ان دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

خلیجی صورتحال اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز بحران کے حل کے لیے ثالثی و سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اس سلسلے میں سلطنتِ عمان کا کردار بھی انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔

ترجمان نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں، آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق بھارتی الزامات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ بنگلہ دیش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے اندرونی معاملات آزادانہ طور پر حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستان ان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔