تہران: ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی حملہ کیا تو ایرانی افواج ان کا راست مقابلہ کرنے کے لیے ہر لمحات تیار ہیں اور ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے ساتھ یہ جنگ طویل اور مسلسل ہے جو اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی، سیکیورٹی اور مالیاتی مراکز کے خلاف جوابی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب و لیمرد کے بچوں کے قتل عام کا بدلہ نہیں لے لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں اٹھنے والے دھویں کے بادل ایرانی قوم کے غصے اور کامیاب جوابی حملوں کا ثبوت ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے مسلسل 13 روز سے ایران کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں مواصلاتی ڈھانچے، پلوں اور واٹر پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے 55 افراد شہید اور 645 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اور ٹرانزٹ کا طریقہ کار ایران خود طے کرے گا، اور خطے کے تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
